जाका गुरु है आँधरा , चेला खरा निरन्ध। अन्धे को अन्धा मिला , पड़ा काल के फन्द॥ 484॥
“Whose teacher is darkness, the disciple is truly endless. The blind was given the blind, caught in the snare of time.”
— کبیر
معنی
جس کا گرو اندھیرا ہے، شاگرد سدا باقی ہے۔ اندھوں کو اندھا ملا، اور وہ وقت کے جال میں پھنس گیا۔
تشریح
یہ شعر ایک گہری تنبیہ ہے کہ اگر کسی کے استاد کا راستہ ہی تاریکی اور گمراہی سے بھرا ہو، تو اس راستے پر چلنے والا شاگرد بھی اسی اندھیرے میں پھنس جائے گا۔ یہاں 'اندھے کو اندھا ملا' کا مطلب ہے کہ جھوٹے یا غلط علم کا ذریعہ زندگی میں صرف مایوسی اور جال میں پھنسنا لاتا ہے۔ کबीर کہتے ہیں کہ ایسے فریب میں پڑنا وقت کے تباہ کن چکر میں پھنسنے جیسا ہے، جہاں سچ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
← Prev81 / 10
