“Oh true Guru, please do this: let there be no greed, attachment, or illusion. The river remains distinct, giving from the river itself.”
یہ شعر سچے گرو سے یہ التجا ہے کہ لالچ، محبت اور وہم کو ختم کیا جائے۔ یہ دریا کی مثال دیتا ہے، جو اپنے آپ میں الگ اور منفرد رہتا ہے، مگر وہ خود ہی دوسروں کو دیتا رہتا ہے۔
جب शायर कबीर یہ بات کرتے ہیں، تو وہ ہماری اندرونی پاکیزگی کو برقرار رکھنے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ سچے گرو سے یہ گزارش کہ نہ لالچ ہو، نہ محبت ہو، نہ کوئی وہم ہو، دراصل روحانی وضاحت کی طلب ہے۔ دریا کا منفرد رہنا اس بات کی علامت ہے کہ چاہے ہم کتنا بھی دے دیں، اپنی اصل شناخت کو کبھی نہیں کھونا چاہیے۔ کبیر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہماری اصل ذات ہمیشہ ہمارے اندر موجود ہوتی ہے، یہ ایک مستقل اور خود مختار ذریعہ ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
