“If the illusion does not dissipate from the Guru, or if the delusion does not vanish from him, Then know that Guru to be false; delay will not bring release.”
اگر کسی استاد (گرو) کی وجہ سے وہ भ्रम دور نہ ہو اور وہ غلط فہمی بھی ختم نہ ہو، تو اس استاد کو جھوٹا سمجھو؛ اس سے نجات پانے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی.
Kabir اس شعر میں ایک بہت گہرا اور سخت سچ بیان کر رہے ہیں۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ روحانی منزل تک پہنچنے کے لیے دل کی مکمل صفائی ضروری ہے۔ اگر کسی بھی استاد کی رہنمائی سے دل کا وہ भ्रम یا وہ غلط فہمی دور نہ ہو جو اصل میں ہے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ راستہ نہیں، بلکہ محض ایک دھوکہ ہے۔ Kabir ہمیں سکھاتے ہیں کہ روحانی جستجو میں ہر وقت اپنے تجربے پر بھروسہ کرنا چاہیے، کیونکہ بغیر تصدیق کے کسی بھی اتھارٹی کو ماننا، نجات سے صرف ایک تاخیر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
