गुरु किया है देह का , सतगुरु चीन्हा नाहिं। भवसागर के जाल में , फिर फिर गोता खाहि॥ 487॥
“The body has been given by the Guru, but the true Guru is not visible. In the net of worldly existence, again and again, one dives down.”
— کبیر
معنی
جسم تو گرو نے دیا ہے، مگر سچے گرو کی پہچان نہیں ہے۔ انسان دنیا کے جال میں بار بار ڈوبتا رہتا ہے۔
تشریح
جسم تو گرو نے دیا، مگر سچو گرو نظر نہیں آتا۔ ہر وقت دنیا کے سمندر کے جال میں، انسان بار بار ڈوبتا رہتا ہے۔ کबीर कहते ہیں کہ یہ کیفیت ہی ہمیں دنیاوی محبت کے چکر میں پھنسا کر رکھتی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
← Prev84 / 10
