غزل
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
یہ غزل محبوب کے تصور کی سحر انگیزی اور عشق کے کمال کا پُراثر بیانیہ ہے۔ جب عشق اپنی اصل حقیقت کو پا لیتا ہے تو شعر و حسن کا دریا بہا کر دونوں جہانوں پر محیط ہو جاتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
यादश-ब-ख़ैर जब वो तसव्वुर में आ गया
शे'र ओ शबाब ओ हुस्न का दरिया बहा गया
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
شعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا
خدا ان کی یاد سلامت رکھے، جب بھی وہ میرے تصور میں آئے تو شاعری، جوانی اور حسن کا ایک دریا بہا گئے۔
2
जब इश्क़ अपने मरकज़-ए-असली पे आ गया
ख़ुद बन गया हसीन दो आलम पे छा गया
جب عشق اپنے مرکز اصلی پہ آ گیا
خود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا
جب محبت اپنے اصل مرکز پر پہنچ گئی، تو وہ خود حسن بن گئی اور دونوں جہانوں پر غالب آگئی۔
3
जो दिल का राज़ था उसे कुछ दिल ही पा गया
वो कर सके बयाँ न हमीं से कहा गया
جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا
وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا
دل کا جو راز تھا اسے بس دل ہی سمجھ سکا؛ نہ وہ اسے الفاظ میں بیان کر سکے اور نہ ہم سے ہی کچھ کہتے بنا۔
4
नासेह फ़साना अपना हँसी में उड़ा गया
ख़ुश-फ़िक्र था कि साफ़ ये पहलू बचा गया
ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا
خوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا
نصیحت کرنے والے نے میرا قصہ ہنسی میں ٹال دیا؛ وہ بہت ہوشیار تھا کہ بڑی صفائی سے اس پہلو سے بچ نکلا۔
5
अपना ज़माना आप बनाते हैं अहल-ए-दिल
हम वो नहीं कि जिन को ज़माना बना गया
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
اہلِ دل لوگ اپنا زمانہ خود بناتے ہیں، ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہیں زمانے نے اپنے سانچے میں ڈھالا ہو۔
6
दिल बन गया निगाह निगह बन गई ज़बाँ
आज इक सुकूत-ए-शौक़ क़यामत ही ढा गया
دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباں
آج اک سکوت شوق قیامت ہی ڈھا گیا
دل نگاہ بن گیا اور نگاہ زبان بن گئی؛ آج شوق و محبت کی ایک خاموشی نے تو قیامت ہی ڈھا دی۔
7
मेरा कमाल-ए-शेर बस इतना है ऐ 'जिगर'
वो मुझ पे छा गए मैं ज़माने पे छा गया
میرا کمال شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ
وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا
اے جگر، میری شاعری کا کمال بس اتنا ہی ہے کہ محبوب مجھ پر غالب آ گیا اور میں پوری دنیا پر چھا گیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
