یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا — جگر مرادآبادی
“Blessed be the memory, whenever into my thoughts they strode; a surging river of verse, youth, and beauty freely flowed.”
معنی
خدا ان کی یاد سلامت رکھے، جب بھی وہ میرے تصور میں آئے تو شاعری، جوانی اور حسن کا ایک دریا بہا گئے۔
تشریح
شاعر یہاں اپنے محبوب کو نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ 'یادش بخیر' کہہ کر یاد کرتا ہے، یعنی ان کی یاد ہمیشہ سلامت رہے۔ محبوب کا صرف خیالوں میں آ جانا ہی دل و دماغ پر ایسا جادو چلاتا ہے کہ شعر، جوانی اور حسن کا ایک بیکراں دریا رواں ہو جاتا ہے۔ یہ شعر اس سحر انگیز کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کا محض تصور بھی بے جان دل میں زندگی، نغمگی اور رعنائی کی لہریں دوڑا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
