جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا — جگر مرادآبادی

جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا

“The secret of the heart was somehow grasped by the heart alone; neither could they put it into words, nor could we make it known.”

— جگر مرادآبادی

معنی

دل کا جو راز تھا اسے بس دل ہی سمجھ سکا؛ نہ وہ اسے الفاظ میں بیان کر سکے اور نہ ہم سے ہی کچھ کہتے بنا۔

تشریح

یہ شعر خاموشی کی اس خوبصورت زبان کی ترجمانی کرتا ہے جسے صرف دلوں کا باہمی رابطہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان محبت کا ایک ایسا لطیف راز تھا جسے نہ محبوب الفاظ میں بیان کر سکا اور نہ عاشق سے کہا گیا، مگر دل نے دل کا حال خود بخود بھانپ لیا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچی اور گہری محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی، وہاں خاموشی ہی سب سے بڑی گفتگو بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.