میرا کمال شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ — جگر مرادآبادی

میرا کمال شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

“The triumph of my verse, O Jigar, is simply this: they held sway over me, and I held sway over the world.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے جگر، میری شاعری کا کمال بس اتنا ہی ہے کہ محبوب مجھ پر غالب آ گیا اور میں پوری دنیا پر چھا گیا۔

تشریح

جگرؔ مراد آبادی نے اس خوبصورت شعر میں کمالِ انکساری سے اپنے پورے فن کا سہرا محبوب کے عشق کے سر باندھ دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میری شاعری کی کل کائنات بس اتنی ہے کہ جب محبوب کا جلوہ اور اس کا احساس میرے وجود پر چھا گیا، تو وہی وارفتگی غزل بن کر پوری دنیا کے دلوں پر راج کرنے لگی۔ یعنی عشق میں خود کو مکمل طور پر مٹا دینا ہی ان کی سب سے بڑی شہرت اور فتح بن گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.