دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباں — جگر مرادآبادی
“The heart became a searching gaze, the gaze became a tongue; today, a silence born of longing has wrought utter ruin like doomsday.”
معنی
دل نگاہ بن گیا اور نگاہ زبان بن گئی؛ آج شوق و محبت کی ایک خاموشی نے تو قیامت ہی ڈھا دی۔
تشریح
یہ شعر خاموشی کے اس پُراثر جادو کا اظہار ہے جہاں الفاظ کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔ جب محبت کی تڑپ حد سے بڑھتی ہے تو پورا دل نگاہ میں ڈھل جاتا ہے اور آنکھیں خود زبان بن کر بولنے لگتی ہیں۔ شوق اور تمنا سے لبریز اس پُراسرار خاموشی نے بغیر لب ہلائے ہی دل کی دنیا میں ایک قیامت برپا کر دی ہے، جس کی شدت لفظوں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
