غزل

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 7 shers· radif: होती जाती है

یہ غزل دل کی اُس بے حسی اور افسردگی کی عکاسی کرتی ہے جہاں طبیعت غم سے بھی بے گانہ ہونے لگتی ہے۔ شاعر نے اِس کیفیت کو نفاست سے بیان کیا ہے کہ کس طرح خوشیاں بھی اب اسبابِ ماتم معلوم ہوتی ہیں اور روح گہرے جمود کا شکار ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
तबीअत इन दिनों बेगाना-ए-ग़म होती जाती है मिरे हिस्से की गोया हर ख़ुशी कम होती जाती है
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے
ان دنوں میری طبیعت غم سے بے نیاز اور لاتعلق ہوتی جا رہی ہے، گویا میرے حصے کی ہر خوشی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔
2
सहर होने को है बेदार शबनम होती जाती है ख़ुशी मंजुमला-ओ-अस्बाब-ए-मातम होती जाती है
سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہے خوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے
صبح ہونے کو ہے اور شبنم بیدار ہو رہی ہے، جبکہ خوشی بھی ماتم کے اسباب کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
3
क़यामत क्या ये ऐ हुस्न-ए-दो-आलम होती जाती है कि महफ़िल तो वही है दिल-कशी कम होती जाती है
قیامت کیا یہ اے حسن دو عالم ہوتی جاتی ہے کہ محفل تو وہی ہے دل کشی کم ہوتی جاتی ہے
اے دونوں جہانوں کے حسن، یہ کیسی قیامت آ رہی ہے کہ محفل تو وہی ہے مگر اس کی دلکشی کم ہوتی جا رہی ہے۔
4
वही मय-ख़ाना-ओ-सहबा वही साग़र वही शीशा मगर आवाज़-ए-नोशा-नोश मद्धम होती जाती है
وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ مگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے
مے خانہ، شراب، پیالہ اور صراحی سب وہی ہیں، لیکن پینے پلانے کی صدائیں اور شور اب رفتہ رفتہ مدہم ہوتا جا رہا ہے۔
5
वही हैं शाहिद-ओ-साक़ी मगर दिल बुझता जाता है वही है शम्अ' लेकिन रौशनी कम होती जाती है
وہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے وہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے
محبوب اور ساقی وہی ہیں مگر پھر بھی دل بجھتا جا رہا ہے، اور شمع بھی وہی ہے لیکن اس کی روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔
6
वही शोरिश है लेकिन जैसे मौज-ए-तह-नशीं कोई वही दिल है मगर आवाज़ मद्धम होती जाती है
وہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئی وہی دل ہے مگر آواز مدھم ہوتی جاتی ہے
وہی اندرونی بے چینی اور تلاطم اب بھی ہے مگر گہرائی میں دبی ہوئی کسی لہر کی طرح؛ دل وہی ہے لیکن اس کی آواز مدھم ہوتی جا رہی ہے۔
7
वही है ज़िंदगी लेकिन 'जिगर' ये हाल है अपना कि जैसे ज़िंदगी से ज़िंदगी कम होती जाती है
وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے
زندگی تو وہی ہے لیکن اے جگرؔ میرا حال یہ ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی میں سے زندگی کم ہوتی جا رہی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.