وہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے — جگر مرادآبادی
“The beloved and the cupbearer are the same, yet the heart flickers out; the candle is the very same, yet its light slowly wanes.”
معنی
محبوب اور ساقی وہی ہیں مگر پھر بھی دل بجھتا جا رہا ہے، اور شمع بھی وہی ہے لیکن اس کی روشنی کم ہوتی جا رہی ہے۔
تشریح
اس شعر میں ایک گہری باطنی اداسی کی تصویر کشی کی گئی ہے، جہاں محفل کا رنگ اور ساقی و محبوب کا جلوہ تو وہی ہے، مگر دل کی امنگ ماند پڑ چکی ہے۔ شمع کے قائم رہنے کے باوجود روشنی کا گھٹنا دراصل انسان کے اپنے اندرونی بجھاؤ اور بیزاری کا خوبصورت استعارہ ہے۔ شاعر یہ سمجھا رہا ہے کہ اصل رونق دنیا کی چمک دمک میں نہیں، بلکہ دل کے زندہ رہنے میں ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
