وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا — جگر مرادآبادی

وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

“Life remains the very same, yet O Jigar, such is my state: as though from life itself, life slowly drains away.”

— جگر مرادآبادی

معنی

زندگی تو وہی ہے لیکن اے جگرؔ میرا حال یہ ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی میں سے زندگی کم ہوتی جا رہی ہے۔

تشریح

جگرؔ مراد آبادی نے اس شعر میں دل کے اس خاموش خالی پن کی تصویر کشی کی ہے جہاں انسان بظاہر تو جی رہا ہوتا ہے، مگر اندر سے خود کو نڈھال اور بجھا ہوا محسوس کرتا ہے۔ دنیا کے سارے معمولات پہلے جیسے ہی ہیں، لیکن زندگی کی اصل چاشنی، رمق اور امنگ رفتہ رفتہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ شعر صرف سانسیں لینے اور سچ مچ جینے کے اس نازک سے فرق کو اتنے پیارے اور گہرے انداز میں بیان کرتا ہے جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.