طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے — جگر مرادآبادی

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے

“These days, my heart grows a stranger to sorrow's sway, / As though each joy allotted to my share is slipping away.”

— جگر مرادآبادی

معنی

ان دنوں میری طبیعت غم سے بے نیاز اور لاتعلق ہوتی جا رہی ہے، گویا میرے حصے کی ہر خوشی آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دل کی ایک عجیب بے حسی اور ویرانی کی کیفیت بیان کر رہا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ غم سے بیگانہ ہو جانا سکون کا باعث ہے، مگر حقیقت میں جب دل دکھ محسوس کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو خوشی کا ذائقہ بھی مٹ جاتا ہے۔ یہ درد سے چھٹکارا نہیں بلکہ جذبات کا وہ سن پن ہے جس کے نتیجے میں انسان کے حصے کی ہر مسرت بھی دھیرے دھیرے رخصت ہو جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.