وہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئی — جگر مرادآبادی
“The same tumult stirs within, yet like a wave submerged deep below; the very same heart it remains, though its voice grows faint and low.”
معنی
وہی اندرونی بے چینی اور تلاطم اب بھی ہے مگر گہرائی میں دبی ہوئی کسی لہر کی طرح؛ دل وہی ہے لیکن اس کی آواز مدھم ہوتی جا رہی ہے۔
تشریح
یہ شعر وقت کے ساتھ جذبات کے اندرونی سفر اور دل کی گہری کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اندر کا طوفان اور بے قراری ختم نہیں ہوئی، بلکہ سمندر کی تہہ میں دبی لہر کی طرح چھپ گئی ہے جو اوپر دکھائی نہیں دیتی۔ دل وہی پرانا ہے اور اس کے جذبات بھی وہی ہیں، مگر زمانے کی تھکن نے اس کی بلند آواز کو ایک گہرے اور خاموش درد میں بدل دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
