سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہے — جگر مرادآبادی

سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہے خوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے

“Dawn draws near, and awakening stirs within the dew; Joy itself turns into a cause for mourning, too.”

— جگر مرادآبادی

معنی

صبح ہونے کو ہے اور شبنم بیدار ہو رہی ہے، جبکہ خوشی بھی ماتم کے اسباب کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

تشریح

شاعر نے صبح کے پُرامید منظر کو بھی ایک دلکش اداسی کے آئینے میں دیکھا ہے۔ عام طور پر سحر خوشی اور نئی زندگی کی نوید لاتی ہے، مگر یہاں شبنم کا بیدار ہونا دراصل فنا کے آنسو ہیں، کیونکہ سورج نکلتے ہی اس کا وجود مٹ جائے گا۔ اس شعر میں یہ گہرا احساس چھپا ہے کہ بسا اوقات جسے دنیا جشن اور مسرت سمجھتی ہے، وہی کسی کی بربادی اور رخصت کا سامان بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.