وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ — جگر مرادآبادی

وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ مگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے

“The tavern and wine remain the same, the goblet and the glass / Yet the joyous calls of 'drink, drink on!' slowly fade and pass.”

— جگر مرادآبادی

معنی

مے خانہ، شراب، پیالہ اور صراحی سب وہی ہیں، لیکن پینے پلانے کی صدائیں اور شور اب رفتہ رفتہ مدہم ہوتا جا رہا ہے۔

تشریح

یہ شعر زندگی کے ڈھلتے رنگوں اور وقت کے گزرنے کا بڑا ہی دل گداز نوحہ ہے۔ دنیا کی بزم، مے خانہ، ساغر اور صہبا سب اپنی جگہ قائم ہیں، مگر محفل کی وہ رونق اور 'نوشا نوش' (پیو پیو) کے پرجوش نعرے اب دھیمے پڑ رہے ہیں۔ شاعر کمال خوبصورتی سے یہ بتاتا ہے کہ عمر ڈھلنے یا مخلص یاروں کے بچھڑ جانے سے دنیا کے ظاہری اسباب تو برقرار رہتے ہیں، مگر دل کی وہ پرانی ترنگ اور جینے کا اصل ولولہ آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.