غزل

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے

شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 8 shers· radif: जाती है

یہ غزل شبِ فراق کے درد میں نیند اور سکون کی آمد کو محبوب کی پنہاں توجہ سے تعبیر کرتی ہے۔ اس میں عشق کو رائیگاں گنوانے کے بجائے زندگی کو ایک زندہ، پُرعزم اور بامعنی حقیقت بنانے کا پُراثر فلسفہ پیش کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
शब-ए-फ़िराक़ है और नींद आई जाती है कुछ इस में उन की तवज्जोह भी पाई जाती है
شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے کچھ اس میں ان کی توجہ بھی پائی جاتی ہے
جدائی کی رات ہے اور پھر بھی نیند آ رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس میں بھی محبوب کی تھوڑی عنایت اور توجہ شامل ہے۔
2
ये उम्र-ए-इश्क़ यूँही क्या गँवाई जाती है हयात ज़िंदा हक़ीक़त बनाई जाती है
یہ عمر عشق یوں ہی کیا گنوائی جاتی ہے حیات زندہ حقیقت بنائی جاتی ہے
کیا عشق کی یہ عمر یوں ہی ضائع کر دی جاتی ہے؟ زندگی کو تو ایک جیتی جاگتی حقیقت بنایا جاتا ہے۔
3
बना बना के जो दुनिया मिटाई जाती है ज़रूर कोई कमी है कि पाई जाती है
بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے ضرور کوئی کمی ہے کہ پائی جاتی ہے
یہ دنیا جو بار بار بنا کر مٹا دی جاتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرور اس میں کوئی کمی پائی جاتی ہے۔
4
हमीं पे इश्क़ की तोहमत लगाई जाती है मगर ये शर्म जो चेहरे पे छाई जाती है
ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہے مگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے
محبت کا سارا الزام صرف مجھ پر ہی لگایا جاتا ہے، جبکہ آپ کے چہرے پر چھانے والی یہ شرم خود آپ کے جذبات کو ظاہر کر رہی ہے۔
5
ख़ुदा करे कि हक़ीक़त में ज़िंदगी बन जाए वो ज़िंदगी जो ज़बाँ तक ही पाई जाती है
خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائے وہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے
خدا کرے کہ وہ زندگی واقعی حقیقت بن جائے جو اب تک محض باتوں اور زبان تک ہی محدود ہے۔
6
गुनाहगार के दिल से न बच के चल ज़ाहिद यहीं कहीं तिरी जन्नत भी पाई जाती है
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
اے زاہد! گناہ گار کے دل سے کترا کر مت گزر، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تیری جنت بھی یہیں کہیں مل جائے۔
7
न सोज़-ए-इश्क़ न बर्क़-ए-जमाल पर इल्ज़ाम दिलों में आग ख़ुशी से लगाई जाती है
نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزام دلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے
نہ تو عشق کی جلن پر کوئی الزام ہے اور نہ حسن کی بجلی پر، دلوں میں یہ آگ انسان اپنی خوشی اور مرضی سے لگاتا ہے۔
8
कुछ ऐसे भी तो हैं रिंदान-ए-पाक-बाज़ 'जिगर' कि जिन को बे-मय-ओ-साग़र पिलाई जाती है
کچھ ایسے بھی تو ہیں رندان پاک باز جگرؔ کہ جن کو بے مئے و ساغر پلائی جاتی ہے
اے جگر، کچھ ایسے پاک باز رند بھی ہیں جن کو بغیر شراب اور پیالے کے ہی پلا دی جاتی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.