ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہے — جگر مرادآبادی

ہمیں پہ عشق کی تہمت لگائی جاتی ہے مگر یہ شرم جو چہرے پہ چھائی جاتی ہے

“The blame of love is laid on me alone, yet what of this blush that spreads across your face?”

— جگر مرادآبادی

معنی

محبت کا سارا الزام صرف مجھ پر ہی لگایا جاتا ہے، جبکہ آپ کے چہرے پر چھانے والی یہ شرم خود آپ کے جذبات کو ظاہر کر رہی ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت کے ایک بڑے دلکش اور شرارتی پہلو کو سمیٹتا ہے۔ شاعر دھیمے سے گلے کے انداز میں کہتا ہے کہ دنیا سارا الزام تو عاشق پر دھر دیتی ہے، لیکن محبوب کے چہرے پر لہراتی یہ حیا خود راز فاش کر دیتی ہے۔ رخساروں پر چھائی یہ معصوم شرم خاموشی سے گواہی دے رہی ہے کہ عشق یکطرفہ نہیں، بلکہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.