نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزام — جگر مرادآبادی

نہ سوز عشق نہ برق جمال پر الزام دلوں میں آگ خوشی سے لگائی جاتی ہے

“Blame neither the searing fire of love nor beauty's lightning strike; it is with willing joy that hearts are set ablaze.”

— جگر مرادآبادی

معنی

نہ تو عشق کی جلن پر کوئی الزام ہے اور نہ حسن کی بجلی پر، دلوں میں یہ آگ انسان اپنی خوشی اور مرضی سے لگاتا ہے۔

تشریح

عام طور پر عاشقی میں دل جلنے کا الزام محبوب کے حسن کی بجلی یا عشق کی تپش پر دھر دیا جاتا ہے، مگر شاعر نے یہاں اس سوچ کو کمال خوبصورتی سے بدل دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبت میں دل کا جلنا کوئی مجبوری یا ناگہانی حادثہ نہیں، بلکہ ایک پُرجوش اور شعوری فیصلہ ہے۔ عاشق اس آگ کو کسی شکوے کے بغیر، اپنے دل میں ازخود اور انتہائی خوشی کے ساتھ جگہ دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.