شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے — جگر مرادآبادی
“It is the night of separation, yet sleep keeps overtaking me; in this, perhaps, some measure of their favor is also to be found.”
معنی
جدائی کی رات ہے اور پھر بھی نیند آ رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس میں بھی محبوب کی تھوڑی عنایت اور توجہ شامل ہے۔
تشریح
ہجر کی رات تو عام طور پر بے چینی، آنسوؤں اور مسلسل تڑپ کا نام ہے، مگر یہاں عاشق پر اچانک نیند کا غلبہ ہو رہا ہے۔ شاعر اسے اپنی بے وفائی یا غفلت ماننے کے بجائے محبوب کی پنہاں عنایت جانتا ہے، جیسے محبوب نے خود اس کے درد پر ترس کھا کر اسے چین کی نیند عطا کر دی ہو۔ یہ شعر محبت کی اس دلکش اور معصوم امید کو سمیٹتا ہے جہاں عاشق کو ہر عارضی سکون میں بھی محبوب کی توجہ اور مہربانی جھلکتی محسوس ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
