خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائے — جگر مرادآبادی

خدا کرے کہ حقیقت میں زندگی بن جائے وہ زندگی جو زباں تک ہی پائی جاتی ہے

“May God grant that it turns into living truth indeed—that life which hitherto is found only upon the tongue.”

— جگر مرادآبادی

معنی

خدا کرے کہ وہ زندگی واقعی حقیقت بن جائے جو اب تک محض باتوں اور زبان تک ہی محدود ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر نے ہمارے دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان کے فاصلے کو دل نشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ہم اکثر اچھے اصولوں اور خوشگوار زندگی کا ذکر تو بڑی خوبصورتی سے کرتے ہیں، مگر وہ سچائی محض باتوں کی حد تک ہی قید رہ جاتی ہے۔ یہ شعر دراصل ایک دلی التجا ہے کہ کاش وہ زندگی صرف زبان کا بول نہ رہے، بلکہ ہماری عملی دنیا میں ایک جیتی جاگتی حقیقت بن جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.