بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے — جگر مرادآبادی
“This world that is repeatedly fashioned only to be undone— / Surely some imperfection must be found in what was begun.”
معنی
یہ دنیا جو بار بار بنا کر مٹا دی جاتی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضرور اس میں کوئی کمی پائی جاتی ہے۔
تشریح
یہ شعر ایک ایسے فنکار کی یاد دلاتا ہے جو مٹی کا کھلونا بڑے چاؤ سے بناتا ہے اور پھر ناپسند آنے پر خود ہی توڑ دیتا ہے۔ شاعر وجود و عدم کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو دیکھ کر ایک معصومانہ مگر گہرا سوال کرتا ہے کہ آخر اس بزمِ جہاں میں ایسی کون سی کسر رہ جاتی ہے جو خالق کو مطمئن نہیں ہونے دیتی۔ اس میں دنیا کی بے ثباتی اور کمالِ فن کی ایک لامتناہی جستجو کا درد بڑی خوبصورتی سے پرویا گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
