غزل
پھر بھی ماں تو ماں ہے!
پھر بھی ماں تو ماں ہے!
یہ غزل ماں کے لیے غیر مشروط محبت اور عقیدت کا خوبصورت اظہار ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ماں خواہ رسوا، شکست خوردہ یا مشکلات کا شکار کیوں نہ ہو، اس کے بچے ہمیشہ اسے عزت دیں گے، اس کے بوجھ بانٹیں گے اور زندگی کے ہر چیلنج میں اس کی رہنمائی کریں گے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
અપમાનિતા-અપયશવતી તું : તોય મા તે મા!
પરવશ-પરાજિત લથડતી તું : તોય મા તે મા!
اگرچہ تم بدنام اور بےعزت ہو، یا بے بس، شکست خوردہ اور لڑکھڑاتی ہو، پھر بھی ماں ماں ہی رہتی ہے۔
2
તુજ પરાજયની ધૂળને
ધરશું અમારે મસ્તકે :
ہم تمہاری شکست کی دھول کو اپنے سر پر اٹھائیں گے۔ یہ تمہاری شکست کو قبول کرنے اور اس کے نتائج کو اپنے اوپر لینے کی علامت ہے۔
3
ચરણો વીંધાયલ કંટકે ચૂમી લઈશું, મા!
મધરાત મારગમાં પડી.
ماں، اگرچہ آپ کے قدم کانٹوں سے چھلنی ہو گئے ہیں، ہم انہیں چوم لیں گے۔ آدھی رات راستے پر پڑ چکی ہے۔
4
આકાશ ઝીંકે છે ઝડી :
તું મૂર્છિતા ને આંધળી : દોરી જઈશું, મા!
آسمان موسلادھار بارش برسا رہا ہے؛ تم بے ہوش اور اندھی ہو ماں، ہم تمہیں لے چلیں گے۔
5
તુજ ખોળલા ભરિયલ હતા,
ત્યાં લગી મીઠા લાગતા!
جب تک تیری گود بھری ہوئی تھی، تب تک سب کچھ میٹھا لگتا تھا۔
6
ખાલી પડી! -આપી ખતા ચાલ્યા ન જાશું, મા!
ચાલ્યા જનારા છો જતા-
یہ خالی ہو گیا! اپنی غلطی تسلیم کر کے، ہم نہیں جائیں گے، ماں! جو جانے والے ہیں، وہ جا رہے ہیں۔
7
અણસમજના શા ઓરતા!
પણ તને ઠોકર મારતા ક્યમ જવા પામે, મા!
یہ کیسی ناسمجھ آرزوئیں ہیں! لیکن تجھ سے ٹکرانے کے بعد، ماں، کوئی کیسے جا سکتا ہے؟
8
તું તો નવલ યુદ્ધે ચડી,
આલમ બધી જોવા ખડી :
تم ایک نئے طرز کی جنگ میں اُتر پڑے ہو، اور تمام دُنیا اسے دیکھنے کے لیے کھڑی ہے۔
9
તે સમે તારી ઠેકડી કપૂતો જ કરશે, મા!
હીણાયલી-રોળાયલી તુ : તોય મા તે મા!
اس وقت، صرف ناخلف بیٹے ہی تمہارا مذاق اڑائیں گے، ماں! تم ذلیل اور پامال کیوں نہ ہو، پھر بھی ماں، ماں ہی ہوتی ہے۔
10
જે હતી તે-ની તે જ છે તું દિલ અમારે, મા!
ماں، تم ہمارے دل میں ویسی ہی ہو جیسی تم ہمیشہ سے تھیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
