غزل
वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ
वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ
یہ غزل عشق اور وجود کی پراسرار حقیقت پر غور کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جنون نے اسے زندگی کی راز کی زبان سکھا دی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو بیان کرنے کے لیے حضرت جبرائیل کا نَفَس مانگتا ہے، جو خود شناخت اور دنیاوی وابستگی کی فانی نوعیت پر گہرے تأمل کو ظاہر کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ
ख़ुदा मुझे नफ़स-ए-जिबरईल दे तो कहूँ
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں
وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں۔ خدا مجھے نَفَسِ جبرائیل دے تو کہوں۔
2
सितारा क्या मिरी तक़दीर की ख़बर देगा
वो ख़ुद फ़राख़ी-ए-अफ़्लाक में है ख़्वार ओ ज़ुबूँ
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
کیا کوئی ستارہ میری تقدیر کی خبر دے پائے گا؟ وہ تو خود فلک کی شان و شوکت میں ہے، جو میرے علم سے پرے ہے۔
3
हयात क्या है ख़याल ओ नज़र की मजज़ूबी
ख़ुदी की मौत है अँदेशा-हा-ए-गूना-गूँ
حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں
اے خیال، زندگی کیا ہے اور نظروں کی مضبوطی کیا ہے؟ یہ خود کی موت ہے، گناہ کا اندیشہ ہے۔
4
अजब मज़ा है मुझे लज़्ज़त-ए-ख़ुदी दे कर
वो चाहते हैं कि मैं अपने आप में न रहूँ
عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
مجھے اپنے آپ میں خود کی لذت کا عجیب مزہ آتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں بھی نہ رہوں۔
5
ज़मीर-ए-पाक ओ निगाह-ए-बुलंद ओ मस्ती-ए-शौक़
न माल-ओ-दौलत-ए-क़ारूँ न फ़िक्र-ए-अफ़लातूँ
ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستئ شوق
نہ مال و دولت قاروں نہ فکر افلاطوں
اے پاک ضمیر، اے بلند نگاہ، اور عشق کی مستی، نہ قارون کے مال کا غم اور نہ دنیا کی فکر۔
6
सबक़ मिला है ये मेराज-ए-मुस्तफ़ा से मुझे
कि आलम-ए-बशरीयत की ज़द में है गर्दूं
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
مجھے یہ سبق معراجِ مصطفیٰ سے ملا ہے کہ عالمِ بشریت میں صرف گرد ہے۔
7
ये काएनात अभी ना-तमाम है शायद
कि आ रही है दमादम सदा-ए-कुन-फ़यकूँ
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں
شاید یہ کائنات ابھی نامکمل ہے، کیونکہ 'کن فیکون' کی دمدام آواز آ رہی ہے۔
8
इलाज आतिश-ए-'रूमी' के सोज़ में है तिरा
तिरी ख़िरद पे है ग़ालिब फ़िरंगियों का फ़ुसूँ
علاج آتش رومیؔ کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
علاج آتِشِ-'رومی' کے سوز میں ہے تیرا، تیری خِرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فُسون۔ (مطلب یہ ہے کہ تمہارا علاج 'رومی' کی جلن کی آگ میں ہے، اور تمہاری قدر پر غالب کا غیر ملکی جادو ہے۔)
9
उसी के फ़ैज़ से मेरी निगाह है रौशन
उसी के फ़ैज़ से मेरे सुबू में है जेहूँ
اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں
اس کی فضل و کرم سے میری نگاہ روشن ہے، اور اسی فضل و کرم سے میرے دل میں تجھ کا جلوہ ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
