Sukhan AI
غزل

वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ

वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ
علامہ اقبال· Ghazal· 9 shers

یہ غزل عشق اور وجود کی پراسرار حقیقت پر غور کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جنون نے اسے زندگی کی راز کی زبان سکھا دی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو بیان کرنے کے لیے حضرت جبرائیل کا نَفَس مانگتا ہے، جو خود شناخت اور دنیاوی وابستگی کی فانی نوعیت پر گہرے تأمل کو ظاہر کرتا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
2
सितारा क्या मिरी तक़दीर की ख़बर देगा वो ख़ुद फ़राख़ी-ए-अफ़्लाक में है ख़्वार ओ ज़ुबूँ
کیا کوئی ستارہ میری تقدیر کی خبر دے پائے گا؟ وہ تو خود فلک کی شان و شوکت میں ہے، جو میرے علم سے پرے ہے۔
3
हयात क्या है ख़याल ओ नज़र की मजज़ूबी ख़ुदी की मौत है अँदेशा-हा-ए-गूना-गूँ
اے خیال، زندگی کیا ہے اور نظروں کی مضبوطی کیا ہے؟ یہ خود کی موت ہے، گناہ کا اندیشہ ہے۔
4
अजब मज़ा है मुझे लज़्ज़त-ए-ख़ुदी दे कर वो चाहते हैं कि मैं अपने आप में न रहूँ
مجھے اپنے آپ میں خود کی لذت کا عجیب مزہ آتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں بھی نہ رہوں۔
5
ज़मीर-ए-पाक ओ निगाह-ए-बुलंद ओ मस्ती-ए-शौक़ न माल-ओ-दौलत-ए-क़ारूँ न फ़िक्र-ए-अफ़लातूँ
اے پاک ضمیر، اے بلند نگاہ، اور عشق کی مستی، نہ قارون کے مال کا غم اور نہ دنیا کی فکر۔
7
ये काएनात अभी ना-तमाम है शायद कि आ रही है दमादम सदा-ए-कुन-फ़यकूँ
شاید یہ کائنات ابھی نامکمل ہے، کیونکہ 'کن فیکون' کی دمدام آواز آ رہی ہے۔
8
इलाज आतिश-ए-'रूमी' के सोज़ में है तिरा तिरी ख़िरद पे है ग़ालिब फ़िरंगियों का फ़ुसूँ
علاج آتِشِ-'رومی' کے سوز میں ہے تیرا، تیری خِرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فُسون۔ (مطلب یہ ہے کہ تمہارا علاج 'رومی' کی جلن کی آگ میں ہے، اور تمہاری قدر پر غالب کا غیر ملکی جادو ہے۔)
9
उसी के फ़ैज़ से मेरी निगाह है रौशन उसी के फ़ैज़ से मेरे सुबू में है जेहूँ
اس کی فضل و کرم سے میری نگاہ روشن ہے، اور اسی فضل و کرم سے میرے دل میں تجھ کا جلوہ ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

वो हर्फ़-ए-राज़ कि मुझ को सिखा गया है जुनूँ | Sukhan AI