غزل

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
علامہ اقبال· Ghazal· 7 shers· radif: आख़िर

یہ غزل روحانی اضطراب، دلی فریاد کی تاثیر اور عشق حقیقی کے دائمی سوز و گداز کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اخلاص سے بھری آہیں بالآخر فلک پر اثر دکھا کر حجابات اٹھا دیتی ہیں اور عشق کا یہ سفر ابتدا سے انتہا تک مستقل تڑپ اور لگن کا متقاضی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
अफ़्लाक से आता है नालों का जवाब आख़िर करते हैं ख़िताब आख़िर उठते हैं हिजाब आख़िर
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
آخرکار آسمانوں سے فریادوں اور آہوں کا جواب آ ہی جاتا ہے۔ بالآخر وہ مخاطب ہوتے ہیں اور سارے پردے اٹھ جاتے ہیں۔
2
अहवाल-ए-मोहब्बत में कुछ फ़र्क़ नहीं ऐसा सोज़ ओ तब-ओ-ताब अव्वल सोज़ ओ तब-ओ-ताब आख़िर
احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا سوز و تب و تاب اول سوز و تب و تاب آخر
محبت کے احوال میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اس کا آغاز بھی جلن اور بے قراری ہے اور اس کا انجام بھی وہی جلن اور تڑپ ہے۔
3
मैं तुझ को बताता हूँ तक़दीर-ए-उमम क्या है शमशीर-ओ-सिनाँ अव्वल ताऊस-ओ-रुबाब आख़िर
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
میں تمہیں بتاتا ہوں کہ قوموں کی تقدیر کیا ہے: آغاز میں تلوار اور نیزہ ہوتا ہے اور انجام میں طاؤس اور رباب۔
4
मय-ख़ाना-ए-यूरोप के दस्तूर निराले हैं लाते हैं सुरूर अव्वल देते हैं शराब आख़िर
مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
یورپ کے مے خانے کے طور طریقے بڑے انوکھے ہیں، وہاں نشہ اور سرور پہلے لاتے ہیں اور شراب آخر میں دیتے ہیں۔
5
क्या दबदबा-ए-नादिर क्या शौकत-ए-तैमूरी हो जाते हैं सब दफ़्तर ग़र्क़-ए-मय-ए-नाब आख़िर
کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموری ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر
خواہ نادر شاہ کا دبدبہ ہو یا تیمور کی جاہ و حشمت، آخرکار دنیاوی جاہ و جلال کے تمام دفتر خالص شراب میں ڈوب ہی جاتے ہیں۔
6
ख़ल्वत की घड़ी गुज़री जल्वत की घड़ी आई छुटने को है बिजली से आग़ोश-ए-सहाब आख़िर
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر
تنہائی کا وقت گزر چکا ہے اور جلوہ گر ہونے کی گھڑی آ پہنچی ہے؛ آخرکار بجلی بادل کی آغوش سے الگ ہونے ہی والی ہے۔
7
था ज़ब्त बहुत मुश्किल इस सैल-ए-मआ'नी का कह डाले क़लंदर ने असरार-ए-किताब आख़िर
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
معانی کے اس طوفان کو قابو میں رکھنا بے حد مشکل تھا، اس لیے آخرکار قلندر نے کتاب کے پوشیدہ راز بیان کر ہی دیے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.