“From the heavens arrives an answer to my cries at last; / They deign to address me, and the veils are cast aside at last.”
آخرکار آسمانوں سے فریادوں اور آہوں کا جواب آ ہی جاتا ہے۔ بالآخر وہ مخاطب ہوتے ہیں اور سارے پردے اٹھ جاتے ہیں۔
یہ شعر سچے دل سے نکلی آہ اور پختہ صبر کی تاثیر کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ جب فریاد میں سچا سوز ہو، تو آسمانوں کی طویل خاموشی بھی ٹوٹتی ہے اور وہاں سے التفات بھرا جواب آتا ہے۔ عاشق اور معشوق—یا بندے اور رب—کے درمیان حائل تمام پردے بالآخر ہٹ جاتے ہیں اور انتظار کا صلہ براہِ راست گفتگو کی صورت میں ملتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
