“The hour of seclusion has passed, the hour of manifestation is near; from the embrace of the cloud at last, the lightning prepares to appear.”
تنہائی کا وقت گزر چکا ہے اور جلوہ گر ہونے کی گھڑی آ پہنچی ہے؛ آخرکار بجلی بادل کی آغوش سے الگ ہونے ہی والی ہے۔
یہ شعر بیداری، اظہار اور اپنے جوہر دکھانے کی نوید سناتا ہے۔ جس طرح بجلی دیر تک بادلوں کی آغوش میں چھپی رہتی ہے اور پھر اچانک کوند کر افق کو روشن کر دیتی ہے، بالکل اسی طرح خاموشی اور تنہائی کا زمانہ اب بیت چکا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب گوشہ نشینی چھوڑ کر جلوت یعنی میدانِ عمل میں اترنے کا وقت آ گیا ہے تاکہ اندر کی چھپی ہوئی طاقتیں دنیا کے سامنے پوری آب و تاب سے چمک اٹھیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
