“In the condition of love, no difference is ever found: the fire, fever, and torment at first; the fire, fever, and torment in the end.”
محبت کے احوال میں کوئی فرق نہیں ہوتا، اس کا آغاز بھی جلن اور بے قراری ہے اور اس کا انجام بھی وہی جلن اور تڑپ ہے۔
شاعر محبت کی مستقل بے قراری کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہتے ہیں کہ عشق کے سفر میں وقت گزرنے کے باوجود کوئی آسانی پیدا نہیں ہوتی۔ جو تڑپ، سوز اور دل کی جلن ابتدا میں ہوتی ہے، انجام تک پہنچ کر بھی اس آگ کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ گویا محبت ایک ایسا سمندر ہے جس کا آغاز بھی طوفان ہے اور انجام بھی وہی اضطراب۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
