“Let me tell you what the destiny of nations is: first the sword and spear, the peacock and lute at the end.”
میں تمہیں بتاتا ہوں کہ قوموں کی تقدیر کیا ہے: آغاز میں تلوار اور نیزہ ہوتا ہے اور انجام میں طاؤس اور رباب۔
علامہ اقبال اس شعر میں قوموں کے عروج و زوال کا تاریخی فلسفہ انتہائی دلنشیں انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ سمجھاتے ہیں کہ قومیں محنت، عزم اور مجاہدانہ زندگی یعنی شمشیر و سناں کے بل بوتے پر تاریخ بناتی ہیں۔ مگر جب وہی قومیں عیش و عشرت، تن آسانی اور رنگ و راگ (طاؤس و رباب) کی دلدل میں گم ہو جاتی ہیں، تو ان کا زوال اور بربادی شروع ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
