کیا دبدبۂ نادر کیا شوکت تیموری ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مے ناب آخر

“What was the terror of Nadir, what was the majesty of Timur? In the end, all scrolls of empire are drowned in purest wine.”

— علامہ اقبال
معنی

خواہ نادر شاہ کا دبدبہ ہو یا تیمور کی جاہ و حشمت، آخرکار دنیاوی جاہ و جلال کے تمام دفتر خالص شراب میں ڈوب ہی جاتے ہیں۔

تشریح

اس شعر میں شاعر دنیاوی طاقت اور جاہ و جلال کی بے ثباتی کا بڑا دلکش نقشہ کھینچتے ہیں۔ نادر شاہ کا لرزہ خیز دبدبہ ہو یا امیر تیمور کی عظیم الشان سلطنت، وقت کے بے رحم بہاؤ کے سامنے کوئی بھی غرور باقی نہیں رہتا۔ فتوحات اور حکمرانی کے یہ تمام تر بلند بانگ دفتر بالآخر خالص شراب کے ایک پیالے میں غرق ہو کر مٹ جاتے ہیں۔ شاعر دراصل ایک دوست کی طرح یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کے تمام تخت و تاج عارضی ہیں اور ان پر اترانا فضول ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.