“Strange are the ways of Europe's tavern hall: first comes intoxication, and wine is served last of all.”
یورپ کے مے خانے کے طور طریقے بڑے انوکھے ہیں، وہاں نشہ اور سرور پہلے لاتے ہیں اور شراب آخر میں دیتے ہیں۔
علامہ اقبال نے اس شعر میں مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک پر بڑی خوبصورت اور معنی خیز چوٹ کی ہے۔ عام مے خانے کا قاعدہ ہے کہ پہلے شراب پی جاتی ہے اور سرور بعد میں آتا ہے، مگر مغرب کا مے خانہ ایسا ہے جہاں اس کا طلسم انسان کو پہلے ہی مدہوش کر دیتا ہے۔ شاعر دراصل آگاہ کر رہے ہیں کہ مغرب کا جادو انسان کے حواس کو حقیقت جانے بغیر ہی اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
