“To stem this surging flood of meaning proved too hard a task; at last, the free-souled mystic revealed the hidden secrets of the Book.”
معانی کے اس طوفان کو قابو میں رکھنا بے حد مشکل تھا، اس لیے آخرکار قلندر نے کتاب کے پوشیدہ راز بیان کر ہی دیے۔
اس شعر میں شاعر نے باطنی معرفت اور سچائی کے اس تلاطم خیز سیلاب کا نقشہ کھینچا ہے جسے سینے میں روکے رکھنا بس سے باہر ہو گیا تھا۔ صوفیانہ روایت میں حقیقت کے اسرار کو عام طور پر چھپا کر رکھا جاتا ہے، مگر جب الہام کا دریا پوری روانی سے امڈتا ہے تو کوئی رکاوٹ کام نہیں آتی۔ چنانچہ اس مست و بے باک قلندر نے دنیا کے اندیشوں کو پسِ پشت ڈال کر کتابِ حکمت کے تمام چھپے ہوئے راز فاش کر دیے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
