Sukhan AI
غزل

واں پہنچ کر جو غش آتا پئےہم ہے ہم کو

واں پہنچ کر جو غش آتا پئےہم ہے ہم کو
مرزا غالب· Ghazal· 14 shers· radif: को

یہ غزل عشق اور عقیدت کی بے پناہ شدت کو بیان کرتی ہے، جہاں عاشق محبوب کے قریب پہنچتے ہی غش کھا جاتا ہے اور اس کے قدموں کی خاک چومنے کی تمنا کرتا ہے۔ دل اور عاشق دونوں وفا میں مگن ہیں، اور مکمل تسلیم و کمزوری کی اس حالت میں بھی لذت محسوس کرتے ہیں، محبوب کی گلی سے بھاگنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ عاشق جان بوجھ کر نظرانداز کیے جانے کی التجا کرتا ہے کیونکہ محبوب کی غلط انداز نگاہ زہر کے مانند ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
वाँ पहुँच कर जो ग़श आता पए-हम है हम को सद-रह आहंग-ए-ज़मीं बोस-ए-क़दम है हम को
وہاں پہنچ کر جو مجھے بار بار غش آتا ہے، وہ آپ کے قدموں کی زمین چومنے کی میری سو گنا شدید خواہش کے باعث ہے۔
2
दिल को मैं और मुझे दिल महव-ए-वफ़ा रखता है किस क़दर ज़ौक़-ए-गिरफ़्तारी-ए-हम है हम को
میرا دل مجھے اور میں دل کو وفاداری میں محو رکھتا ہوں۔ ہمیں اس باہمی گرفتاری سے کتنا گہرا لطف آتا ہے۔
3
ज़ो'फ़ से नक़्श-ए-प-ए-मोर है तौक़-ए-गर्दन तिरे कूचे से कहाँ ताक़त-ए-रम है हम को
ضعف کی وجہ سے چیونٹی کا نقشِ پا بھی گردن کا طوق ہے۔ تیرے کوچے سے بھاگنے کی طاقت ہم میں کہاں ہے?
4
जान कर कीजे तग़ाफ़ुल कि कुछ उम्मीद भी हो ये निगाह-ए-ग़लत-अंदाज़ तो सम है हम को
آپ جان بوجھ کر ہمیں نظر انداز کیجیے تاکہ کچھ امید باقی رہے۔ آپ کی یہ فریب دینے والی نگاہ تو ہمارے لیے زہر ہے۔
5
रश्क-ए-हम-तरही दर्द-ए-असर-ए-बांग-ए-हज़ीं नाला-ए-मुर्ग़-ए-सहर तेग़-ए-दो-दम है हम को
ہماری ہم طرز کی رشک اور ایک غمگین نالے کے اثر کا درد؛ صبح کے پرندے کی آواز ہمارے لیے دو دھاری تلوار ہے۔
6
सर उड़ाने के जो वा'दे को मुकर्रर चाहा हँस के बोले कि तिरे सर की क़सम है हम को
جب میں نے سر قلم کرنے کے وعدے کو بار بار چاہا، تو وہ ہنس کر بولے کہ ہمیں تیرے سر کی قسم ہے۔
7
दिल के ख़ूँ करने की क्या वजह व-लेकिन नाचार पास-ए-बे-रौनक़ी-ए-दीदा अहम है हम को
میرے دل کے خون کرنے کی کیا وجہ ہے؟ لیکن میں مجبور ہوں۔ مجھے اپنی آنکھوں کی بے رونقی (اداسی) کو برقرار رکھنا اہم ہے تاکہ میرا غم ظاہر نہ ہو۔
8
तुम वो नाज़ुक कि ख़मोशी को फ़ुग़ाँ कहते हो हम वो 'आजिज़ कि तग़ाफ़ुल भी सितम है हम को
تم اتنے نازک ہو کہ خاموشی کو بھی فغاں سمجھتے ہو۔ ہم اتنے بے بس ہیں کہ تمہاری تغافل بھی ہمیں ستم معلوم ہوتا ہے۔
9
लखनऊ आने का बा'इस नहीं खुलता या'नी हवस-ए-सैर-ओ-तमाशा सो वो कम है हम को
لکھنؤ آنے کی وجہ واضح نہیں، کیونکہ ہمیں سیر و تماشا کی ہوس بہت کم ہے۔
10
मक़्ता-ए-सिलसिला-ए-शौक़ नहीं है ये शह्र अज़्म-ए-सैर-ए-नजफ़-ओ-तौफ़-ए-हरम है हम को
یہ شہر ہماری خواہشات کے سلسلے کا اختتام نہیں ہے۔ ہمارا پختہ ارادہ ہے کہ ہم نجف کا سفر کریں اور حرم کا طواف کریں۔
11
लिए जाती है कहीं एक तवक़्क़ो' 'ग़ालिब' जादा-ए-रह कशिश-ए-काफ़-ए-करम है हम को
غالب، ایک توقع مجھے کہیں لے جا رہی ہے۔ میرے سفر کا راستہ ایک مہربان ہاتھ کی کشش ہے۔
12
अब्र रोता है कि बज़्म-ए-तरब आमादा करो बर्क़ हँसती है कि फ़ुर्सत कोई दम है हम को
ابر روتا ہے کہ خوشی کی محفل تیار کرو۔ برق ہنستی ہے کہ کیا ہمیں پل بھر کی بھی فرصت ہے؟
13
ताक़त-ए-रंज-ए-सफ़र भी नहीं पाते उतनी हिज्र-ए-यारान-ए-वतन का भी अलम है हम को
ہمیں سفر کی مشقتوں کو برداشت کرنے کی اتنی طاقت بھی نہیں ملتی، اور ہمیں وطن کے یاروں سے جدائی کا غم بھی ہے۔
14
लाई है मो'तमुद्दौला बहादुर की उमीद जादा-ए-रह कशिश-ए-काफ़ करम है हम को
معتمد الدولہ بہادر سے ملی امید یہ خوش قسمتی لائی ہے؛ ہمارے لیے راستے کا توشہ ان کے مہربان ہاتھ کی کشش ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

واں پہنچ کر جو غش آتا پئےہم ہے ہم کو | Sukhan AI