غزل
تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
یہ غزل شاعر کی شدید تکلیف اور اندرونی کشمکش کو بیان کرتی ہے، جہاں اس کی تپش بستر کے ہر تار کو ایک معرکہ آرائی کا میدان بنا دیتی ہے۔ سر سے لے کر دل تک، ہر حصہ رنج و بے بسی سے لبریز ہے، اور تنہائی کی شامیں اضطراب کے طوفان سے بھری ہیں۔ لیکن محبوب کی عیادت کے لیے آمد ایک امید کی کرن لاتی ہے، جس سے شاعر اپنی بیماری کو بھی خوش قسمتی تصور کرتا ہے اور اس کا بستر بھی روشنی اور بیداری سے معمور ہو جاتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
तपिश से मेरी वक़्फ़-ए-कशमकश हर तार-ए-बिस्तर है
मिरा सर रंज-ए-बालीं है मिरा तन बार-ए-बिस्तर है
میری تپش سے بستر کا ہر تار کشمکش میں الجھا ہے۔ میرا سر تکیے کے لیے رنج ہے اور میرا تن بستر کے لیے بوجھ ہے۔
2
सरिश्क-ए-सर ब-सहरा दादा नूर-उल-ऐन-ए-दामन है
दिल-ए-बे-दस्त-ओ-पा उफ़्तादा बर-ख़ुरदार-ए-बिस्तर है
میرے سر سے نکلے آنسو جو صحرا میں بکھرے ہیں، وہ دامن کی آنکھوں کی روشنی ہیں۔ میرا بے بس اور گرا ہوا دل بستر کا مبارک وارث بن گیا ہے۔
3
ख़ुशा इक़बाल-ए-रंजूरी 'अयादत को तुम आए हो
फ़रोग-ए-शम-ए-बालीं ताले'-ए-बेदार-ए-बिस्तर है
مری بیماری کا کیا اقبال ہے کہ تم عیادت کو آئے ہو۔ میرے سرہانے جلتی شمع کی روشنی میرے بستر کے بیدار بخت جیسی ہے۔
4
ब-तूफ़ाँ-गाह-ए-जोश-ए-इज़्तिराब-ए-शाम-ए-तन्हाई
शुआ-ए-आफ़्ताब-ए-सुब्ह-ए-महशर तार-ए-बिस्तर है
تنہا شام کی بے چینی کے طوفانی جوش میں، صبحِ محشر کی آفتاب کی شعاع میرے بستر کا ایک دھاگا معلوم ہوتی ہے۔
5
अभी आती है बू बालिश से उस की ज़ुल्फ़-ए-मुश्कीं की
हमारी दीद को ख़्वाब-ए-ज़ुलेख़ा आर-ए-बिस्तर है
ابھی بھی اُس کی مشکیں زلفوں کی خوشبو تکیے سے آ رہی ہے۔ ہماری دید (دیکھنے کی آرزو) کے لیے خوابِ زلیخا بستر کی عار ہے۔
6
कहूँ क्या दिल की क्या हालत है हिज्र-ए-यार में 'ग़ालिब'
कि बेताबी से हर-यक तार-ए-बिस्तर ख़ार-ए-बिस्तर है
غالب، اپنے محبوب کی جدائی میں میرے دل کی کیا حالت ہے، میں کیا کہوں؟ بے تابی کی وجہ سے، بستر کا ہر دھاگہ کانٹے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
7
ब-ज़ौक़-ए-शोख़ी-ए-आ'ज़ा तकल्लुफ़ बार-ए-बिस्तर है
मु'आफ़-ए-पेच-ओ-ताब-ए-कशमकश हर तार-ए-बिस्तर है
جب اعضا میں شوخی کا ذوق ہو، تو بستر کا تکلف ایک بوجھ لگتا ہے۔ بستر کا ہر تار کشمکش کے پیچ و تاب سے معاف ہے۔
8
मु'अम्मा-ए-तकल्लुफ़ सर-ब-मेह्र-ए-चश्म पोशीदन
गुदाज़-ए-शम'-ए-महफ़िल पेचिश-ए-तूमार-ए-बिस्तर है
تکلف کی پہیلی جان بوجھ کر آنکھیں بند کر کے نظر انداز کرنا ہے۔ محفل کی شمع کا پگھلنا بستر کے طومار کو سمیٹنے جیسا ہے، جو محفل کے اختتام کا وقت ہے۔
9
मिज़ा फ़र्श-ए-रह-ओ-दिल ना-तवान-ओ-आरज़ू मुज़्तर
ब-पा-ए-ख़ुफ़्ता सैर-ए-वादी-ए-पुर-ख़ार-ए-बिस्तर है
میرا مزاج راہ کی چٹائی جیسا پست ہے، دل کمزور ہے اور آرزوئیں مضطرب ہیں۔ سوئے ہوئے پیروں سے کانٹوں بھری وادی/بستر کی سیر ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
