غزل
شبنم ب گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
شبنم ب گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
یہ غزل ایک عاشق کے گہرے دکھ اور نامکمل حسرت کو بیان کرتی ہے۔ یہ گلِ لالہ پر شبنم کی مثال سے محبوب کے حسن اور عاشق کے خون ہوتے دل کو دکھاتی ہے، جو ناکام عشق کے شدید درد کو اجاگر کرتا ہے۔ اشعار محبوب کے دلکش انداز اور اس کی ایک جھلک پانے کی عاشق کی شدید تڑپ کو خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
शबनम ब-गुल-ए-लाला न ख़ाली ज़-अदा है
दाग़-ए-दिल-ए-बेदर्द नज़र-गाह-ए-हया है
شبنم بہ گل لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغ دل بے درد نظر گاہ حیا ہے
شَبنم گلِ لالہ پر اپنی ادا سے خالی نہیں ہے، یعنی اس میں خوبصورتی ہے۔ ایک بے درد دل پر لگا داغ شرمندگی کا مقام ہے۔
2
दिल ख़ूँ-शुदा-ए-कशमकश-ए-हसरत-ए-दीदार
आईना ब-दस्त-ए-बुत-ए-बद-मस्त हिना है
دل خوں شدۂ کشمکش حسرت دیدار
آئینہ بہ دست بت بد مست حنا ہے
میرا دل محبوب کے دیدار کی حسرت کی کشمکش میں لہولہان ہے۔ مدہوش محبوب کے ہاتھ میں رکھا آئینہ خود حنا (مہندی) ہے۔
3
शोले से न होती हवस-ए-शोला ने जो की
जी किस क़दर अफ़्सुर्दगी-ए-दिल पे जला है
شعلے سے نہ ہوتی ہوس شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے
شعلے کی چاہت نے وہ کر دکھایا جو خود شعلہ نہ کر سکا۔ دل کی اس افسردگی پر میرا جی کتنا جل گیا ہے۔
4
तिमसाल में तेरी है वो शोख़ी कि ब-सद-ज़ौक़
आईना ब-अंदाज़-ए-गुल आग़ोश-कुशा है
تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
آئینہ بہ انداز گل آغوش کشا ہے
تمہاری تصویر میں ایسی شوخی ہے کہ آئینہ، سو ذوق کے ساتھ، ایک پھول کی طرح آغوش کشا ہے۔
5
क़ुमरी कफ़-ए-ख़ाकीस्तर ओ बुलबुल क़फ़स-ए-रंग
ऐ नाला निशान-ए-जिगर-ए-सोख़्ता क्या है
قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
اے نالہ نشان جگر سوختہ کیا ہے
قمری ایک مٹھی راکھ ہے اور بلبل رنگوں کا ایک پنجرہ ہے۔ اے نالہ، جلے ہوئے جگر کا کیا نشان ہے؟
6
ख़ू ने तिरी अफ़्सुर्दा किया वहशत-ए-दिल को
माशूक़ी ओ बे-हौसलगी तरफ़ा बला है
خو نے تری افسردہ کیا وحشت دل کو
معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
تیری خُو نے دل کی وحشت کو افسردہ کر دیا ہے۔ محبوب ہونا اور بے حوصلہ ہونا ایک عجیب بلا ہے۔
7
मजबूरी ओ दावा-ए-गिरफ़्तारी-ए-उल्फ़त
दस्त-ए-तह-ए-संग-आमदा पैमान-ए-वफ़ा है
مجبوری و دعواۓ گرفتاری الفت
دست تہ سنگ آمدہ پیمان وفا ہے
مجبوری اور عشق میں گرفتار ہونے کا دعویٰ ایسا ہے جیسے وفا کا پیمان پتھر تلے آیا ہوا ہاتھ ہو۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دباؤ میں وفاداری کا وعدہ نبھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
8
मालूम हुआ हाल-ए-शहीदान-ए-गुज़श्ता
तेग़-ए-सितम आईना-ए-तस्वीर-नुमा है
معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہ
تیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
گزرے ہوئے شہیدوں کا حال معلوم ہوا۔ ظلم کی تلوار ایک ایسا آئینہ ہے جو ان کی تصویر دکھاتا ہے۔
9
ऐ परतव-ए-ख़ुर्शीद-ए-जहाँ-ताब इधर भी
साए की तरह हम पे अजब वक़्त पड़ा है
اے پرتو خورشید جہاں تاب ادھر بھی
سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
اے دنیا کو روشن کرنے والی سورج کی کرن، ذرا ہماری طرف بھی دیکھو۔ ہم پر ایک عجیب وقت پڑا ہے، جیسے کوئی سایہ۔
10
ना-कर्दा गुनाहों की भी हसरत की मिले दाद
या रब अगर इन कर्दा गुनाहों की सज़ा है
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
یا رب، اگر میرے کیے ہوئے گناہوں کی سزا ہے، تو میری یہ آرزو ہے کہ جو گناہ میں نے نہیں کیے، ان کی حسرت کو بھی داد ملے۔
11
बेगानगी-ए-ख़ल्क़ से बे-दिल न हो 'ग़ालिब'
कोई नहीं तेरा तो मिरी जान ख़ुदा है
بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے
غالب، دنیا کی بیگانگی سے دل چھوٹا نہ کر۔ اگر کوئی تیرا نہیں تو میری جان، خدا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
