मजबूरी ओ दावा-ए-गिरफ़्तारी-ए-उल्फ़त
दस्त-ए-तह-ए-संग-आमदा पैमान-ए-वफ़ा है
“The helplessness and the claim of love's captivity, a promise of loyalty is like a hand caught beneath a stone.”
— مرزا غالب
معنی
مجبوری اور عشق میں گرفتار ہونے کا دعویٰ ایسا ہے جیسے وفا کا پیمان پتھر تلے آیا ہوا ہاتھ ہو۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دباؤ میں وفاداری کا وعدہ نبھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
