Sukhan AI
غزل

رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کُشتہ ہے

رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کُشتہ ہے
مرزا غالب· Ghazal· 8 shers· radif: है

یہ غزل بجھتی ہوئی محبت، کھوئی ہوئی امید اور ماضی کی اداس یادوں کے موضوعات کو ایک بجھے ہوئے چراغ کے استعارے سے دل کو چھو جانے والے انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ وفا کی عارضی نوعیت اور بے رونقی و نامکمل خواہشات کے درمیان خوشی تلاش کرنے کی جدوجہد کا ذکر کرتی ہے۔ اشعار گزرے ہوئے دور کی مایوسی اور باقی ماندہ نشانات کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रहम कर ज़ालिम कि क्या बूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है नब्ज़-ए-बीमार-ए-वफ़ा दूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
رحم کر اے ظالم کہ بجھے ہوئے چراغ کا وجود ہی کیا ہے؟ وفا کے بیمار کی نبض تو بجھے ہوئے چراغ کا دھواں ہے۔
2
दिल-लगी की आरज़ू बेचैन रखती है हमें वर्ना याँ बे-रौनक़ी सूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
دِل لگی کی آرزو ہمیں بے چین رکھتی ہے۔ ورنہ، اس دنیا کی بے رونقی ایک بجھے ہوئے چراغ کے نفع کے برابر ہے، جس کا مطلب کچھ نہیں یا محض تاریکی ہے۔
3
नश्शा-ए-मय बे-चमन दूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है जाम दाग़-ए-शो'ला-अंदूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
باغ کے دلکشی کے بغیر شراب کا نشہ بجھے ہوئے چراغ کا دھواں محض ہے۔ شراب کا جام اسی بجھے ہوئے چراغ کے شعلہ آلود داغ جیسا ہے۔
4
दाग़ हम दीगर हैं अहल-ए-बाग़ गर गुल हो शहीद लाला चश्म-ए-हसरत-आलूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
اے اہل باغ، ہمارے داغ مختلف ہیں، اگرچہ گل بھی شہید ہو۔ لالہ ایک بجھے ہوئے چراغ کی حسرت زدہ آنکھ ہے۔
5
शोर है किस बज़्म की अर्ज़-ए-जराहत-ख़ाना का सुब्ह यक-बज़्म-ए-नमक सूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
یہ کس محفل (بزم) کے زخموں کے گھر کی عرض (فریاد) کا شور ہے؟ صبح نمک کی ایک محفل ہے، بجھے ہوئے چراغ کا یہ سود (فائدہ) ہے۔
6
ना-मुराद-ए-जल्वा हर 'आलम में हसरत गुल करे लाला दाग़-ए-शो'ला फ़र्सूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
ہر عالم میں جلوے کی نامراد حسرت پھول بنے۔ لالا (پوپی) کا سیاہ داغ بجھے ہوئے چراغ کے شعلے کا فرسودہ نشان ہے۔
7
हो जहाँ तेरा दिमाग़-ए-नाज़ मस्त-ए-बे-ख़ुदी ख़्वाब-ए-नाज़-ए-गुल-रुख़ाँ दूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
جہاں تیرا دماغِ ناز بے خودی میں مست ہو، وہاں گل رخوں کے ناز و انداز کے خواب بجھے ہوئے چراغ کا دھواں ہیں۔
8
है दिल-अफ़सुर्दा दाग़-ए-शोख़ी-ए-मतलब 'असद' शो'ला आख़िर फ़ाल-ए-मक़्सूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
میرا دل شوخ مطالب کے داغ سے افسردہ ہے، اسد؛ بالآخر، شعلہ ایک بجھے ہوئے چراغ کا مقصود فال ہوتا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کُشتہ ہے | Sukhan AI