शोर है किस बज़्म की अर्ज़-ए-जराहत-ख़ाना का
सुब्ह यक-बज़्म-ए-नमक सूद-ए-चराग़-ए-कुश्ता है
“What is this clamor, this plea from a wounded heart's domain?The morning is an assembly of salt, a cruel gain for the extinguished flame.”
— مرزا غالب
معنی
یہ کس محفل (بزم) کے زخموں کے گھر کی عرض (فریاد) کا شور ہے؟ صبح نمک کی ایک محفل ہے، بجھے ہوئے چراغ کا یہ سود (فائدہ) ہے۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
