غزل

نہ لے وے گر خس جوہر طراوت سبزہ خط سے

نہ لے وے گر خس جوہر طراوت سبزہ خط سے
مرزا غالب· Ghazal· 9 shers· radif: आतिश

یہ غزل 'آتش' (آگ، جذبہ، چمک) کی ہمہ گیر اور تغیر پذیر طاقت کو بیان کرتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح محبوب کا شدید حسن دنیا کو روشن کر سکتا ہے، عاشق کی مشکلات حل کر سکتا ہے، اور کیسے یہ بنیادی قوت چنار کے درخت کی چمک سے لے کر سکون کے جوہر تک مختلف اشکال میں ظاہر ہوتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
न लेवे गर ख़स-ए-जौहर तरावत सब्ज़ा-ए-ख़त से लगाए ख़ाना-ए-आईना में रू-ए-निगार आतिश
نہ لیوے گر خس جوہر طراوت سبزۂ خط سے لگائے خانۂ آئینہ میں روئے نگار آتش
اگر آئینے کا جوہر محبوب کے سبزۂ خط سے تازگی نہ پائے، تو محبوب کا چہرہ ہی آئینے کے گھر کو آگ لگا دے گا۔
2
फ़रोग़-ए-हुस्न से होती है हल्ल-ए-मुश्किल-ए-आशिक़ न निकले शम' के पा से निकाले गर न ख़ार आतिश
فروغ حسن سے ہوتی ہے حل مشکل عاشق نہ نکلے شمع کے پا سے نکالے گر نہ خار آتش
عاشق کی مشکلات حُسن کی چمک سے حل ہوتی ہیں۔ جس طرح شمع کے پاؤں سے کانٹا تب تک نہیں نکلتا جب تک آگ اسے نہ نکالے۔
3
हुई है बस कि सर्फ़-ए-मशक़ तमकीन-ए-बहार आतिश ब-अंदाज़-ए-हिना है रौनक़ दस्त-ए-चिनार आतिश
ہوئی ہے بس کہ صرف مشق تمکین بہار آتش بہ انداز حنا ہے رونق دست چنار آتش
بہار کی آگ کی شان و شوکت اس کے مظاہرے میں پوری طرح صرف ہو چکی ہے۔ چنار کے ہاتھ (پتے) کی چمک مہندی کی طرح ہے، ایک آتشیں نظارہ۔
4
शरर है रंग बा'द इज़हार-ए-ताब-ए-जल्वा-ए-तम्कीं करे है संग पर ख़ुर्शीद आब-ए-रू-ए-कार आतिश
شرر ہے رنگ بعد اظہار تاب جلوۂ تمکیں کرے ہے سنگ پر خورشید آب روئے کار آتش
باوقار جلوے کی شاندار روشنی کے اظہار کے بعد ایک شرر محض ایک رنگ ہے۔ سورج خود پتھر پر آگ کا پگھلانے والا کام انجام دیتا ہے۔
5
पनावे बे-गुदाज़-ए-मोम रब्त-ए-पैकर-आराई निकाले क्या निहाल-ए-शम्अ बे-तुख़्म-ए-शरार आतिश
پناوے بے گداز موم ربط پیکر آرائی نکالے کیا نہال شمع بے تخم شرار آتش
موم کے پگھلے بغیر کوئی شکل نہیں بن سکتی اور چنگاری کے بیج کے بغیر شمع کا پودا آگ نہیں نکال سکتا۔
6
ख़याल-ए-दूद था सर-जोश-ए-साैदा-ए-ग़लत-फ़हमी अगर रखती न ख़ाकिस्तर-नशीनी का ग़ुबार आतिश
خیال دود تھا سر جوش سودائے غلط فہمی اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
دھوئیں کا تصور محض ایک غلط فہمی کا شدید جوش تھا، اگر آگ خود خاکستر نشینی کا غبار نہ رکھتی۔
7
हवा-ए-पर-फ़िशानी बर्क़-ए-ख़िर्मन-हा-ए-ख़ातिर है ब-बाल-ए-शोला-ए-बेताब है परवाना-ज़ार आतिश
ہوائے پر فشانی برق خرمن ہائے خاطر ہے ببال شعلۂ بیتاب ہے پروانہ زار آتش
پر پھڑپھڑانے کی خواہش دل کی جمع شدہ سوچوں اور احساسات کے لیے بجلی کی مانند ہے۔ آگ خود، ایک پروانے کی طرح، ایک بے تاب شعلے کے پروں پر موجود ہے۔
8
नहीं बर्क़-ओ-शरर जुज़ वहशत-ए-ज़ब्त-ए-तपीदन-हा बिला गर्दान-ए-बे-परवा ख़रामी-हा-ए-यार आतिश
نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا بلا گردان بے پروا خرامی ہائے یار آتش
یہ بَرق و شَرَر نہیں، بلکہ دبی ہوئی تپِش کی شدید وحشت ہے۔ یہ اندرونی آگ محبوب کی بے پرواہ خرامِیوں کے لیے ایک بَلا گَردان ہے۔
9
धुएँ से आग के इक अब्र-ए-दरिया-बार हो पैदा 'असद' हैदर-परस्तों से अगर होवे दो-चार आतिश
دھوئیں سے آگ کے اک ابر دریا بار ہو پیدا اسدؔ حیدر پرستوں سے اگر ہووے دو چار آتش
اے 'اسد'، اگر آگ حیدر کے پرستاروں سے دو چار ہو تو آگ کے دھوئیں سے ایک دریا بار بادل پیدا ہو سکتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.