हुई है बस कि सर्फ़-ए-मशक़ तमकीन-ए-बहार आतिश
ब-अंदाज़-ए-हिना है रौनक़ दस्त-ए-चिनार आतिश
“So fully is the fire of spring's majesty spent in its display, that the glow of the chinar's 'hand' is like henna's hue, a fiery sight.”
— مرزا غالب
معنی
بہار کی آگ کی شان و شوکت اس کے مظاہرے میں پوری طرح صرف ہو چکی ہے۔ چنار کے ہاتھ (پتے) کی چمک مہندی کی طرح ہے، ایک آتشیں نظارہ۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
