غزل
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
اس غزل میں غالب نے راہِ عشق کی دشواریوں اور بیابانوں کے باوجود اپنے غیر متزلزل شوق اور عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس میں دنیاوی رعنائیوں سے بے زاری اور مسلسل جستجو و اضطراب کی کیفیت کو فکری گہرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
न होगा यक-बयाबाँ माँदगी से ज़ौक़ कम मेरा
हबाब-ए-मौजा-ए-रफ़्तार है नक़्श-ए-क़दम मेरा
نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا
حباب موجۂ رفتار ہے نقش قدم میرا
ایک صحرا کے سفر کی تھکن سے میرا شوق کم نہیں ہوگا، کیونکہ میرا نقشِ قدم میری تیز رفتار کی لہر پر محض ایک بلبلہ ہے۔
2
मोहब्बत थी चमन से लेकिन अब ये बे-दिमाग़ी है
कि मौज-ए-बू-ए-गुल से नाक में आता है दम मेरा
محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے
کہ موج بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا
مجھے کبھی باغ سے محبت تھی، لیکن اب طبیعت اس قدر بے زار ہے کہ پھول کی خوشبو کے جھونکے سے بھی میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔
3
रह-ए-ख़्वाबीदा थी गर्दन-कश-ए-यक-दर्स-ए-आगाही
ज़मीं को सैली-ए-उस्ताद है नक़्श-ए-क़दम मेरा
رہ خوابیدہ تھی گردن کش یک درس آگاہی
زمیں کو سیلئ استاد ہے نقش قدم میرا
سوئی ہوئی راہ آگاہی کا ایک سبق بھی لینے پر آمادہ نہ تھی، اس لیے زمین پر میرے قدم کا نشان اُسے بیدار کرنے کے لیے استاد کے طمانچے کی طرح ہے۔
4
सुराग़-आवारा-ए-अर्ज़-ए-दो-आलम शोर-ए-महशर हूँ
पर-अफ़्शाँ है ग़ुबार आँ सू-ए-सहरा-ए-अदम मेरा
سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
میں دونوں جہانوں کی وسعت کی تلاش میں بھٹکتا ہوا محشر کا شور ہوں، اور میری خاک کا غبار عدم کے صحرا کے بھی اس پار پرواز کر رہا ہے۔
5
हवा-ए-सुब्ह यक-आलम गरेबाँ चाकी-ए-गुल है
दहान-ए-ज़ख़्म पैदा कर अगर खाता है ग़म मेरा
ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
صبح کی ہوا کے سبب سارے پھول گریبان چاک کیے ہوئے ہیں؛ اگر تجھے میرا غم کھانا ہے تو زخم کا منہ پیدا کر۔
6
न हो वहशत-कश-ए-दर्स-ए-सराब-ए-सत्र-ए-आगाही
मैं गर्द-ए-राह हूँ बे-मुद्दआ है पेच-ओ-ख़म मेरा
نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی
میں گرد راہ ہوں بے مدعا ہے پیچ و خم میرا
علم و آگاہی کے سراب کے سبق سے پریشان یا وحشت زدہ مت ہو؛ میں تو صرف راستے کی دھول ہوں اور میرے پیچ و خم کا کوئی مقصد نہیں۔
7
'असद' वहशत-परस्त-ए-गोशा-ए-तन्हाई-ए-दिल है
ब-रंग-ए-मौज-ए-मय ख़म्याज़ा-ए-साग़र है रम मेरा
اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے
برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا
اسد دل کی تنہائی کے گوشے میں وحشت کا پجاری ہے؛ شراب کی موج کی طرح میرا بھاگنا بھی صرف ساغر کی انگڑائی تک ہی محدود ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
