ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے — مرزا غالب
“The morning breeze sets a whole world of roses tearing their collars wide; Open the mouth of a wound, if you would truly consume my grief.”
معنی
صبح کی ہوا کے سبب سارے پھول گریبان چاک کیے ہوئے ہیں؛ اگر تجھے میرا غم کھانا ہے تو زخم کا منہ پیدا کر۔
تشریح
غالبؔ نے اس شعر میں ’غم کھانا‘ کے محاورے سے ایک لاجواب تصویر کھینچی ہے، جہاں اس کا مطلب ہمدردی کرنا بھی ہے اور لفظی معنوں میں غم کو نگلنا بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ نسیمِ سحر پھولوں کے گریبان چاک کر کے انہیں کھلا دیتی ہے، بالکل اسی وارفتگی کی طرح جیسے عاشق اپنا دامن پھاڑ لے۔ سو اگر تم سچ مچ میرے درد کے شناسا بننا اور میرا غم کھانا چاہتے ہو، تو تمہیں بھی پھول کی طرح اپنا سینہ چاک کر کے زخم کا دہانہ پیدا کرنا پڑے گا، کیونکہ اتنا بے پایاں درد عام دل میں سما ہی نہیں سکتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
