اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے — مرزا غالب

اسدؔ وحشت پرست گوشۂ تنہائی دل ہے برنگ موج مے خمیازۂ ساغر ہے رم میرا

“Asad is a worshipper of wild frenzy in the heart's lonely retreat; like a surge of wine, my flight is bounded by the goblet's stretch.”

— مرزا غالب

معنی

اسد دل کی تنہائی کے گوشے میں وحشت کا پجاری ہے؛ شراب کی موج کی طرح میرا بھاگنا بھی صرف ساغر کی انگڑائی تک ہی محدود ہے۔

تشریح

غالب اس شعر میں اپنی باطنی بے چینی اور مجبوری کی بڑی دلکش تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دل کے ویران گوشے میں جنون اور وحشت کا ایک طوفان برپا ہے، مگر یہ ساری تڑپ محض تنہائی کی قید میں محدود ہے۔ جس طرح شراب کی لہر پیالے کے اندر ہی بل کھاتی اور مچلتی ہے مگر اس کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتی، بالکل اسی طرح شاعر کی پرواز اور اضطراب بھی اس کے اپنے ہی وجود میں مقید ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.