سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں — مرزا غالب
“I am the clamor of Judgment Day, wandering in search of both worlds' span; yet my dust spreads its wings far beyond the desert of non-existence.”
معنی
میں دونوں جہانوں کی وسعت کی تلاش میں بھٹکتا ہوا محشر کا شور ہوں، اور میری خاک کا غبار عدم کے صحرا کے بھی اس پار پرواز کر رہا ہے۔
تشریح
غالب اس شعر میں اپنی ہستی کی وسعت کو ایک حیرت انگیز کائناتی انداز میں بیان کر رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دونوں جہانوں کو لرزا دینے والا قیامت کا شور تو محض میرے وجود کا سراغ ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ میری روح اور فنا کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ عدم کا لامتناہی صحرا بھی مجھے سمیٹ نہیں پاتا، اور میری خاک اس لاوجود کے بھی پار پرواز کر رہی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
