محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے — مرزا غالب
“I once loved the garden dearly, but such is my weariness now, that even the rose's wafting fragrance chokes the breath upon my brow.”
معنی
مجھے کبھی باغ سے محبت تھی، لیکن اب طبیعت اس قدر بے زار ہے کہ پھول کی خوشبو کے جھونکے سے بھی میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کی اس شدید اداسی اور بیزاری کی عکاسی کرتا ہے جب انسان اندر سے بالکل ٹوٹ چکا ہو۔ شاعر فرماتے ہیں کہ کبھی انہیں بھی گلشن اور اس کے نظاروں سے گہرا لگاؤ تھا، مگر اب دل کی تھکن اور بے دماغی کا یہ عالم ہے کہ پھولوں کی نرم و نازک خوشبو بھی ان کا دم گھٹنے لگی ہے۔ دراصل یہ اس جذباتی کیفیت کا بیان ہے جہاں روح زخمی ہو تو زندگی کی خوبصورت ترین نعمتیں بھی بوجھ بن کر ستانے لگتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
