نہ ہو وحشت کش درس سراب سطر آگاہی — مرزا غالب
“Be not bewildered by the lesson in the mirage of awareness; I am but dust upon the path, purposeless are these twists and turns of mine.”
معنی
علم و آگاہی کے سراب کے سبق سے پریشان یا وحشت زدہ مت ہو؛ میں تو صرف راستے کی دھول ہوں اور میرے پیچ و خم کا کوئی مقصد نہیں۔
تشریح
غالب بڑی انکساری سے فرماتے ہیں کہ میری ذات یا کلام میں علم و دانش کے پُرفریب فلسفے تلاش کر کے خود کو الجھن اور وحشت میں مت ڈالو۔ وہ خود کو راستے پر اڑتی ہوئی گرد قرار دیتے ہیں، جس کے پیچ و خم اور چکر ہوا کے رحم و کرم پر ہیں، جن کے پیچھے نہ کوئی منزل ہے اور نہ کوئی ارادہ۔ اس شعر میں ایک گہری صوفیانہ بےنیازی ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کے ہر موڑ اور ہر کیفیت میں مقصد ڈھونڈنے کے بجائے کبھی کبھی اس کے بےساختہ پن کو قبول کر لینا ہی سکون دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
