غزل
حسنِ ماہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے
حسنِ ماہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچھا ہے
یہ غزل محبوب کے بے مثال حسن کی تعریف کرتی ہے، اسے چاند کی کاملیت سے بھی فائق بتاتی ہے۔ اس میں محبوب کے شوخ مزاج کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے، جو پیار دینے میں جھجکتے ہیں مگر مفت ملنے والی چیزوں کو زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔ شاعر سادہ خوشیوں اور بغیر التماس حاصل ہونے والے احترام کو ترجیح دیتا ہے۔
Source: rekhta · HI
ویڈیو · کلاسک
ویڈیو دیکھیں →نغمہ سنیں
1
हुस्न-ए-मह गरचे ब-हंगाम-ए-कमाल अच्छा है
उस से मेरा मह-ए-ख़ुर्शीद-जमाल अच्छा है
حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
اس سے میرا مہہ خورشید جمال اچھا ہے
اگرچہ چاند کا حُسن اپنے کمال پر اچھا ہوتا ہے، لیکن اس سے بھی بہتر میرا محبوب ہے جس کا چہرہ چاند جیسا اور حُسن سورج جیسا ہے۔
2
बोसा देते नहीं और दिल पे है हर लहज़ा निगाह
जी में कहते हैं कि मुफ़्त आए तो माल अच्छा है
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
وہ بوسہ نہیں دیتے، مگر ان کی نگاہ ہر لمحہ میرے دل پر ہے۔ وہ دل میں کہتے ہیں کہ اگر یہ مفت میں آ جائے تو مال اچھا ہے۔
3
और बाज़ार से ले आए अगर टूट गया
साग़र-ए-जम से मिरा जाम-ए-सिफ़ाल अच्छा है
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
میرا مٹی کا پیالہ جمشید کے شاہی پیالے سے بہتر ہے، کیونکہ اگر وہ ٹوٹ جائے تو اسے بازار سے دوبارہ خریدا جا سکتا ہے۔
4
बे-तलब दें तो मज़ा उस में सिवा मिलता है
वो गदा जिस को न हो ख़ू-ए-सवाल अच्छा है
بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
اگر بغیر طلب کیے کچھ دیا جائے تو اس میں لطف زیادہ آتا ہے۔ وہ فقیر قابلِ تعریف ہے جسے سوال کرنے کی عادت نہ ہو۔
5
उन के देखे से जो आ जाती है मुँह पर रौनक़
वो समझते हैं कि बीमार का हाल अच्छा है
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
ان کے دیکھنے سے جو چہرے پر رونق آ جاتی ہے، وہ (محبوب) سمجھتے ہیں کہ بیمار (عاشق) کا حال اچھا ہے۔
6
देखिए पाते हैं उश्शाक़ बुतों से क्या फ़ैज़
इक बरहमन ने कहा है कि ये साल अच्छा है
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
آئیے دیکھتے ہیں کہ عشاق بتوں سے کیا فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔
7
हम-सुख़न तेशा ने फ़रहाद को शीरीं से किया
जिस तरह का कि किसी में हो कमाल अच्छा है
ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
فرہاد کے ہم سخن تیشے نے اسے شیریں سے ہم کلام کیا۔ کسی میں بھی جس طرح کا کمال ہو، وہ اچھا ہوتا ہے۔
8
क़तरा दरिया में जो मिल जाए तो दरिया हो जाए
काम अच्छा है वो जिस का कि मआल अच्छा है
قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
جس طرح ایک قطرہ دریا میں مل جائے تو وہ دریا بن جاتا ہے، اسی طرح وہی کام اچھا ہے جس کا مآل اچھا ہو۔
9
ख़िज़्र-सुल्ताँ को रखे ख़ालिक़-ए-अकबर सरसब्ज़
शाह के बाग़ में ये ताज़ा निहाल अच्छा है
خضر سلطاں کو رکھے خالق اکبر سرسبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
خالقِ اکبر خضر سلطان کو سدا سرسبز اور شاداب رکھے۔ بادشاہ کے باغ میں یہ تازہ پودا واقعی ایک پیارا منظر ہے۔
10
हम को मालूम है जन्नत की हक़ीक़त लेकिन
दिल के ख़ुश रखने को 'ग़ालिब' ये ख़याल अच्छा है
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
ہم کو جنت کی حقیقت معلوم ہے لیکن دل کو خوش رکھنے کے لیے، غالب، یہ خیال اچھا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
