غزل

ہجومِ نالہ حیرت عاجزِ عرض یک افغاں ہے

ہجومِ نالہ حیرت عاجزِ عرض یک افغاں ہے
مرزا غالب· Ghazal· 7 shers· radif: है

یہ غزل غم کی گہری کیفیت اور مایوسی کو بیان کرتی ہے، جہاں ماتم کی کثرت کی وجہ سے ایک آہ بھرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ شاعر بدخصلتوں کی مہربانی کو جان لیوا قرار دیتا ہے اور محبوب کی بے حجاب نگاہ ناز کو تیز تلوار سے تشبیہ دیتا ہے۔ غم کی اس انتہا پر عید کی صبح بھی گریبان کے پھٹنے سے بدتر محسوس ہوتی ہے، جو دل کی گہرائیوں میں چھپے درد کو نمایاں کرتی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
हुजूम-ए-नाला हैरत आजिज़-ए-अर्ज़ यक-अफ़्ग़ाँ है ख़मोशी रेशा-ए-सद-नीस्ताँ से ख़स-ब-दंदाँ है
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
نالوں کا ہجوم حیرت زدہ ہو کر ایک آہ بھی ظاہر کرنے سے قاصر ہے۔ خاموشی، سو نرسلوں کی جڑوں جیسی گہری، دانتوں میں تنکا دبائے ہوئے ہے، جو مکمل سپردگی یا بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔
2
तकल्लुफ़-बर-तरफ़ है जाँ-सिताँ-तर लुत्फ़-ए-बद-ख़ूयाँ निगाह-ए-बे-हिजाब-ए-नाज़ तेग़-ए-तेज़-ए-उर्यां है
تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں نگاہ بے حجاب ناز تیغ تیز عریاں ہے
تکلف برطرف، بد خوؤں کا لطف زیادہ جان لیوا ہوتا ہے۔ ناز کی بے حجاب نگاہ ایک تیز اور برہنہ تلوار ہے۔
3
हुई ये कसरत-ए-ग़म से तलफ़ कैफ़ियत-ए-शादी कि सुब्ह-ए-ईद मुझ को बद-तर अज़-चाक-ए-गरेबाँ है
ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
غم کی زیادتی نے میری خوشی کی کیفیت کو تباہ کر دیا ہے، اس لیے عید کی صبح بھی مجھے پھٹے ہوئے گریبان سے بدتر لگتی ہے۔
4
दिल ओ दीं नक़्द ला साक़ी से गर सौदा किया चाहे कि उस बाज़ार में साग़र माता-ए-दस्त-गर्दां है
دل و دیں نقد لا ساقی سے گر سودا کیا چاہے کہ اس بازار میں ساغر متاع دست گرداں ہے
اگر تم ساقی سے سودا کرنا چاہتے ہو تو دل اور دین نقد لے کر آؤ۔ کیونکہ اس بازار میں ساغر ایک ایسی شے ہے جو مسلسل ہاتھ بدلتی رہتی ہے۔
5
ग़म आग़ोश-ए-बला में परवरिश देता है आशिक़ को चराग़-ए-रौशन अपना क़ुल्ज़ुम-ए-सरसर का मर्जां है
غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو چراغ روشن اپنا قلزم صرصر کا مرجاں ہے
غم عاشق کو آفتوں کی گود میں پروان چڑھاتا ہے۔ ہمارا روشن چراغ طوفانی سمندر کا مرجان ہے، جو مشکل حالات میں بھی چمکتا ہے۔
6
तकल्लुफ़ साज़-ए-रुस्वाई है ग़ाफ़िल शर्म-ए-रानाई दिल-ए-ख़ूँ-गश्ता दर दस्त-ए-हिना-आलूदा उर्यां है
تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی دل خوں گشتہ در دست حنا آلودہ عریاں ہے
اے غافل، تکلّف خوبصورتی کی شرم کے لیے رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ خون میں لت پت دل مہندی لگے ہاتھ میں عیاں ہے۔
7
'असद' जमइयत-ए-दिल दर-किनार-ए-बे-ख़ुदी ख़ुश-तर दो-आलम आगही सामान-ए-यक-ख़्वाब-ए-परेशाँ है
اسدؔ جمعیت دل در کنار بے خودی خوش تر دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
اسد، دل کا سکون بے خودی کی حالت میں زیادہ خوشگوار ہے۔ کیونکہ دونوں عالموں کی آگہی محض ایک پریشان کن خواب کا سامان ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.