Sukhan AI
غزل

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
مرزا غالب· Ghazal· 11 shers· radif: था

یہ غزل تاخیر اور تقدیر کی پیچیدگیوں کو نازکی سے چھوتی ہے، یہ تجویز کرتی ہے کہ بیرونی عوامل اکثر نتائج پر حکمرانی کرتے ہیں اور ذاتی تباہی بھی تقدیر کے منصوبے سے جڑی ہو سکتی ہے۔ شاعر ایک فراموش شدہ محبوب کو اپنے ماضی کے تعلق کی یاد دلاتا ہے، اور اختتام ایک قیدی عاشق کی طاقتور تصویر کے ساتھ ہوتا ہے جس کے خیالات ابھی بھی محبوب کی زلفوں میں مگن ہیں، اگرچہ زنجیروں کا بھاری بوجھ موجود ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हुई ताख़ीर तो कुछ बाइस-ए-ताख़ीर भी था आप आते थे मगर कोई इनाँ-गीर भी था
اگر تاخیر ہوئی تو اس کی کوئی وجہ بھی تھی۔ آپ آ رہے تھے مگر کوئی آپ کی لگام تھامے ہوئے تھا۔
2
तुम से बेजा है मुझे अपनी तबाही का गिला उस में कुछ शाइब-ए-ख़ूबी-ए-तक़दीर भी था
تم سے اپنی تباہی کا گلہ کرنا میرے لیے بے جا ہے، کیونکہ اس میں میری تقدیر کی خوبی کا بھی کچھ شائبہ تھا۔
3
तू मुझे भूल गया हो तो पता बतला दूँ कभी फ़ितराक में तेरे कोई नख़चीर भी था
اگر تم مجھے بھول گئے ہو تو میں تمہیں یاد دلانا چاہتا ہوں۔ کیا کبھی تمہاری شکاری پیٹی میں کوئی شکار نہیں تھا؟
4
क़ैद में है तिरे वहशी को वही ज़ुल्फ़ की याद हाँ कुछ इक रंज-ए-गिराँ-बारी-ए-ज़ंजीर भी था
قید میں ہونے کے باوجود، تیرے دیوانے کو تیری زلفوں کی ہی یاد آتی ہے۔ ہاں، زنجیروں کے بھاری ہونے کا کچھ رنج بھی تھا۔
5
बिजली इक कौंद गई आँखों के आगे तो क्या बात करते कि मैं लब-तिश्ना-ए-तक़रीर भी था
بجلی کا آنکھوں کے آگے ایک پل کے لیے چمک کر غائب ہو جانا کس کام کا تھا؟ آپ کو بات کرنی چاہیے تھی، کیونکہ میں بھی گفتگو کا پیاسا تھا۔
6
यूसुफ़ उस को कहूँ और कुछ न कहे ख़ैर हुई गर बिगड़ बैठे तो मैं लाइक़-ए-ताज़ीर भी था
میں نے اسے یوسف کہا اور وہ کچھ نہ بولا، یہ اچھا ہوا۔ اگر وہ ناراض ہو جاتا تو میں سزا کا حقدار بھی تھا۔
7
देख कर ग़ैर को हो क्यूँ न कलेजा ठंडा नाला करता था वले तालिब-ए-तासीर भी था
رقیب کو دیکھ کر اس کا دل کیوں نہ ٹھنڈا ہو؟ میں نالہ کرتا تھا، لیکن میری یہ بھی خواہش تھی کہ میرے نالوں کا کوئی اثر ہو۔
8
पेशे में ऐब नहीं रखिए न फ़रहाद को नाम हम ही आशुफ़्ता-सरों में वो जवाँ-मीर भी था
پیشہ میں عیب نہ نکالیں اور نہ ہی فرہاد کے نام کو بدنام کریں؛ ہم جیسے ہی آشفتہ سروں میں وہ نوجوان میر بھی شامل تھا۔
9
हम थे मरने को खड़े पास न आया न सही आख़िर उस शोख़ के तरकश में कोई तीर भी था
ہم مرنے کو تیار کھڑے تھے، اگر وہ قریب نہیں آیا تو کوئی بات نہیں۔ آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر تھا بھی کیا؟
10
पकड़े जाते हैं फ़रिश्तों के लिखे पर ना-हक़ आदमी कोई हमारा दम-ए-तहरीर भी था
ہمیں فرشتوں کے لکھے ہوئے پر ناحق پکڑا جاتا ہے، جبکہ اس تحریر کے وقت ہمارا کوئی آدمی وہاں موجود بھی تھا؟
11
रेख़्ते के तुम्हीं उस्ताद नहीं हो 'ग़ालिब' कहते हैं अगले ज़माने में कोई 'मीर' भी था
غالب، تم ہی ریختہ (اردو شاعری) کے اکیلے استاد نہیں ہو؛ کہتے ہیں کہ گزرے زمانے میں کوئی 'میر' بھی تھا۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا | Sukhan AI