तुम से बेजा है मुझे अपनी तबाही का गिला
उस में कुछ शाइब-ए-ख़ूबी-ए-तक़दीर भी था
“It is unjust for me to complain to you about my ruin; For in it, there was also a trace of destiny's inherent beauty.”
— مرزا غالب
معنی
تم سے اپنی تباہی کا گلہ کرنا میرے لیے بے جا ہے، کیونکہ اس میں میری تقدیر کی خوبی کا بھی کچھ شائبہ تھا۔
تشریح
یہ شاعری گہری جذبات اور فلسفے کی تلاش کرتا ہے۔ غالب نے محبت، طلب اور روحانی تلاش کے موضوعوں کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔
